
باب 3: سویڈن کا نظامِ حکومت کیسے چلتا ہے
یہ باب اس بارے میں ہے کہ سیاسی طاقت کو ریاست، خطوں (ریجنز) اور میونسپلٹیز (کمونز) کے درمیان کیسے تقسیم کیا گیا ہے۔ عوام فیصلہ کرتے ہیں کہ وہاں کون سے سیاستدان حکومت کریں گے۔ سیاستدان قوانین، ضوابط اور بجٹ کے بارے میں فیصلے کرتے ہیں جبکہ حکومتی ادارے عملی طور پر ان فیصلوں پر عمل درآمد کرتے ہیں۔
ملک کو مختلف سطحوں پر چلایا جاتا ہے
سویڈن میں سیاسی ذمہ داری کو قومی سطح (ریاست)، علاقائی سطح (ریجنز) اور مقامی سطح (میونسپلٹیز) کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، سویڈن یورپی یونین (EU) کے فیصلوں سے بھی متاثر ہوتا ہے۔
ریاست (Staten)
جسے ریاست کہا جاتا ہے وہ پارلیمنٹ (رکسداگ)، حکومت، سرکاری اداروں اور عدالتوں پر مشتمل ہے۔ سویڈن ایک پارلیمانی نمائندہ جمہوریت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شہری عام انتخابات میں ووٹ دیتے ہیں اور پارلیمنٹ کے لیے ارکان کا انتخاب کرتے ہیں، جو بدلے میں قوانین اور ریاستی بجٹ کے بارے میں فیصلے کرتے ہیں۔
پارلیمنٹ کے 349 ارکان ہیں جو ہر چار سال بعد منتخب ہوتے ہیں۔ وہ مختلف جماعتوں اور ملک کے مختلف حصوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ قوانین بناتے ہیں اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ریاست کا پیسہ کیسے استعمال کیا جائے۔ پارلیمنٹ وزیر اعظم کا انتخاب کرتی ہے جسے حکومت بنانے کا کام سونپا جاتا ہے۔ اس کے بعد وزیر اعظم حکومت میں وزراء کا انتخاب کرتا ہے۔

سٹاک ہوم میں پارلیمنٹ کی عمارت۔
ہر موسم خزاں میں، حکومت پارلیمنٹ کو ریاست کی آمدنی اور اخراجات کی ایک تجویز پیش کرتی ہے۔ اسے بجٹ کی تجویز (budgetproposition) کہا جاتا ہے۔ بجٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کون سی پالیسی اپنانا چاہتی ہے اور ریاست کو کن چیزوں کو ترجیح دینی چاہیے۔
جو پارٹیاں حکومت کی حمایت نہیں کرتیں انہیں اپوزیشن کہا جاتا ہے۔ اپوزیشن کا کام حکومت کے کام کی جانچ پڑتال کرنا اور متبادل پالیسی تجویز کرنا ہے۔ پارلیمنٹ میں، حکومتی پارٹیاں اور اپوزیشن مختلف تجاویز پر بحث و مباحثہ کرتی ہیں جس کے بعد پارلیمنٹ کے ارکان ان تجاویز پر ووٹ دیتے ہیں۔
حکومتی ادارے (Myndigheter)
حکومت سرکاری اداروں کی مدد سے ملک کا نظام چلاتی ہے۔ سویڈن میں کئی سو سرکاری ادارے ہیں۔ کچھ مثالیں یہ ہیں: ایمپلائمنٹ ایجنسی (Arbetsförmedlingen)، سوشل انشورنس ایجنسی (Försäkringskassan)، مائیگریشن ایجنسی (Migrationsverket)، پولیس اتھارٹی (Polismyndigheten)، اور ٹیکس ایجنسی (Skatteverket)۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص والدین کے الاؤنس (föräldrapenning) کے لیے درخواست دیتا ہے، تو اس کا فیصلہ سوشل انشورنس ایجنسی کرتی ہے۔
سرکاری اداروں کو قانون اور حکومت کی طرف سے ملنے والی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔ کچھ خاص ادارے ہیں جو یہ چیک کرتے ہیں کہ دوسرے ادارے درست طریقے سے کام کر رہے ہیں یا نہیں، ان میں پارلیمانی محتسب (JO) اور چانسلر آف جسٹس (JK) شامل ہیں۔
ریجنز اور میونسپلٹیز (Regioner och kommuner)
سویڈن کو 21 ریجنز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان کا نظام وہ سیاستدان چلاتے ہیں جنہیں ریجن کے باشندوں نے علاقائی انتخابات میں منتخب کیا ہوتا ہے۔ سیاستدان ریجنل اسمبلی (regionfullmäktige) میں فیصلے کرتے ہیں۔ ریجنز کا سب سے اہم کام اپنے علاقے میں صحت اور طبی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالنا ہے۔ ریجنز اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں کہ وہاں پبلک ٹرانسپورٹ جیسے بسیں، ٹرام اور سب وے (میٹرو) موجود ہوں۔ وہ کاؤنٹی کے عجائب گھروں کے بھی ذمہ دار ہیں۔
میونسپلٹیز کی ذمہ داریاں (Kommunernas ansvar)
سویڈن کو 290 میونسپلٹیز (کمونز) میں بھی تقسیم کیا گیا ہے۔ سب سے بڑی میونسپلٹی سویڈن کا دارالحکومت سٹاک ہوم ہے جہاں تقریباً دس لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ سب سے چھوٹی میونسپلٹی ویسٹربوتن کاؤنٹی کی دوروتیا (Dorotea) ہے جس کی آبادی 3,000 سے بھی کم ہے۔
میونسپلٹیز کا نظام ان سیاستدانوں کے ذریعے چلایا جاتا ہے جنہیں وہاں کے رہائشیوں نے میونسپل انتخابات میں منتخب کیا ہوتا ہے۔ وہ میونسپل اسمبلی (kommunfullmäktige) میں فیصلے کرتے ہیں۔ میونسپلٹی میں زیادہ تر سیاستدان عام نوکریاں کرتے ہیں اور اپنے فارغ وقت میں سیاست کا کام کرتے ہیں۔ میونسپلٹی میں مختلف محکموں کے لیے کمیٹیاں (nämnder) ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ثقافتی کمیٹی لائبریریوں کی اور تعلیمی کمیٹی میونسپلٹی میں سکولوں کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ ان کمیٹیوں کے ارکان کو میونسپل اسمبلی منتخب کرتی ہے۔
میونسپلٹیز باشندوں کو ملنے والی بہت سی خدمات کی ذمہ دار ہیں، مثلاً پانی اور سیوریج، بزرگوں اور بچوں کی دیکھ بھال، برف ہٹانا، پارکوں کی دیکھ بھال، اور بالغوں کی تعلیم۔ اسی لیے، میونسپلٹی میں ہونے والے فیصلے اکثر لوگوں کی روزمرہ زندگی پر پارلیمنٹ کے فیصلوں کی نسبت زیادہ براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔
سویڈن کا طرزِ حکومت (Sveriges statsskick)
سویڈن ایک آئینی بادشاہت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کا سربراہ ایک بادشاہ یا ملکہ ہوتا ہے جس کے پاس کوئی سیاسی طاقت نہیں ہوتی۔ بادشاہ سویڈن کی ایک علامت کے طور پر کام کرتا ہے، دوسرے ممالک کے سرکاری دورے کرتا ہے، اور دوسرے ممالک کے سربراہانِ مملکت جب سویڈن آتے ہیں تو ان کا استقبال کرتا ہے۔

سویڈن کے بادشاہ کا نام کارل سولہواں گستاف (Carl XVI Gustaf) ہے اور ان کی سب سے بڑی بیٹی وکٹوریہ (Victoria) ولی عہد ہیں۔ اس کے بعد، وکٹوریہ کی بیٹی ایسٹیل (Estelle) کی باری ہے کہ وہ حکمران بنیں۔
