
باب 1: مملکت سویڈن
یہ باب سویڈن کے جغرافیہ، آب و ہوا اور فطرت کے بارے میں ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں چند اہم قدرتی وسائل اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے سویڈن کے اقدامات کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔
جغرافیہ، آب و ہوا اور فطرت
سویڈن شمالی یورپ کے خطے ‘نورڈک’ (Nordic) میں واقع ہے۔ ملک کا انتہائی شمالی حصہ خطِ استوا سے دور، قطب شمالی کے دائرے (Arctic Circle) میں آتا ہے۔ سویڈن ایک طویل ملک ہے جس کا رقبہ اپنے انتہائی شمالی مقام، ٹریرکسروسیٹ (Treriksröset)، سے لے کر انتہائی جنوبی مقام، سمیگیہوک (Smygehuk) تک تقریباً 1,600 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔
سویڈن کا ساحل کافی طویل ہے۔ مشرقی ساحل سے متصل سمندر کو بحیرہ بالٹک (Östersjön) کہا جاتا ہے۔ سویڈن کے دو سب سے بڑے جزائر، گوٹ لینڈ (Gotland) اور اولینڈ (Öland) بھی یہیں واقع ہیں۔ مغربی ساحل کے سمندروں کو سکاگیراک (Skagerrak) اور کاٹیگاٹ (Kattegatt) کہا جاتا ہے۔
اپنے انتہائی شمالی محلِ وقوع کے باوجود، اسی عرض البلد پر واقع دیگر خطوں کی نسبت سویڈن کی آب و ہوا خاصی معتدل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ گلف سٹریم (Gulf Stream) اور نارتھ اٹلانٹک ڈرفٹ (North Atlantic Drift) ہیں، جو خلیج میکسیکو سے گرم پانی بحر اوقیانوس کے راستے یورپ کی طرف لاتے ہیں۔ سمندر کا یہ پانی ہوا کو گرم کرتا ہے، اور پھر ہوائیں اس معتدل اور نم ہوا کو سویڈن کی جانب لے آتی ہیں۔

نورڈک خطہ شمالی یورپ کا حصہ ہے۔ اس خطے میں پانچ ممالک شامل ہیں: ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، ناروے اور سویڈن۔ سویڈن نورڈک خطے کا سب سے بڑا ملک ہے۔
سویڈن کی فطرت
تقریباً 10,000 سال قبل، سویڈن کئی کلومیٹر موٹی برف کی تہہ سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس دور کو ‘عہدِ برفانی’ (Ice Age) کہا جاتا ہے۔ جب یہ برف پگھل گئی تو اس نے زمین کی ہیئت کو یکسر تبدیل کر دیا اور اپنے پیچھے واضح نشانات چھوڑے، جن میں لاتعداد جھیلیں، ہزاروں جزائر پر مشتمل مجمع الجزائر (archipelagos) اور قابلِ کاشت میدانی علاقے شامل ہیں۔ آج کے پہاڑوں کی ظاہری شکل پر بھی اس برف کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
پہاڑ (Fjäll)
سکینڈے نیوین پہاڑی سلسلہ (Skanderna) ناروے کی سرحد کے ساتھ واقع ہے اور اسے "fjällen” (پہاڑ) کہا جاتا ہے۔ وہاں کی آب و ہوا اس قدر سرد اور طوفانی ہے کہ درختوں کی نشوونما ناممکن ہے۔ یہ ایک وسیع و عریض اور کھلا علاقہ ہے جو زیادہ تر چٹانوں، گھاس اور کم اونچائی والی نباتات پر مشتمل ہے۔ سویڈن کی بلند ترین چوٹی، کیبنیکائسے (Kebnekaise)، جس کی بلندی تقریباً 2,000 میٹر ہے، اسی علاقے میں واقع ہے۔
جنگلات، جھیلیں اور جزائر
سویڈن کے نصف سے زائد رقبے پر جنگلات محیط ہیں۔ ملک کے شمالی حصے میں، جہاں آب و ہوا سرد ہے، زیادہ تر مخروطی درخت (coniferous trees) جیسے صنوبر (spruce) اور چیڑ (pine) پائے جاتے ہیں۔ جنوب کی طرف آب و ہوا قدرے معتدل ہے، اس لیے وہاں چوڑے پتوں والے درخت (deciduous trees) زیادہ عام ہیں۔
سویڈن بھر میں لاتعداد جھیلیں پھیلی ہوئی ہیں۔ تین سب سے بڑی جھیلیں وینرن (Vänern)، واترن (Vättern) اور مالارین (Mälaren) ہیں۔
اس کے علاوہ ملک میں کئی سو آبی گزرگاہیں (ندیاں اور دریا) موجود ہیں۔ سب سے بڑے دریا شمالی سویڈن کے پہاڑوں سے نکل کر سمندر کی طرف بہتے ہیں۔
مجمع الجزائر (Skärgård)
مجمع الجزائر ایک ایسے سمندری علاقے کو کہتے ہیں جہاں خشکی کے قریب بہت سے جزائر ہوں۔ ایسے مجمع الجزائر شمالی سویڈن کے ساحل پر، مشرقی ساحل کے ساتھ سمالینڈ (Småland) تک، اور مغربی ساحل پر گوتھنبرگ (Göteborg) اور بوہوسلان (Bohuslän) کے قریب پائے جاتے ہیں۔
سویڈن میں تقریباً 250,000 جزائر ہیں، جو دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہیں۔

سویڈن کی انتظامی تقسیم
سویڈن کو عموماً تین بڑے خطوں (landsdelar) میں تقسیم کیا جاتا ہے: گوٹالینڈ (Götaland)، سویالینڈ (Svealand) اور نورلینڈ (Norrland)۔
گوٹالینڈ جنوبی سویڈن میں، سویالینڈ وسطی سویڈن میں اور نورلینڈ شمالی سویڈن میں واقع ہے۔ نورلینڈ نے سویڈن کے نصف سے زیادہ رقبے کو گھیرا ہوا ہے۔
اس کے علاوہ سویڈن کو 25 تاریخی صوبوں (landskap) میں بھی تقسیم کیا گیا ہے۔ ماضی میں، ان صوبوں کے اپنے الگ قوانین ہوا کرتے تھے۔ تاہم، دورِ حاضر کے ریاستی اور حکومتی نظام میں ان کی کوئی آئینی یا انتظامی حیثیت نہیں ہے۔ اس کے باوجود، بہت سے سویڈش شہری اپنے پیدائشی یا رہائشی صوبے سے ایک گہری جذباتی وابستگی محسوس کرتے ہیں۔ انتظامی لحاظ سے سویڈن کو 21 کاؤنٹیوں (län) اور 290 میونسپلٹیز (kommuner) میں منقسم کیا گیا ہے۔

سویڈن کو گوٹالینڈ، سویالینڈ اور نورلینڈ میں تقسیم کیا گیا ہے۔
آبادی
سویڈن کی مجموعی آبادی تقریباً 11 ملین (ایک کروڑ دس لاکھ) افراد پر مشتمل ہے۔ ملک میں آبادی کی تقسیم یکساں نہیں ہے۔ زیادہ تر لوگ سویڈن کے جنوبی حصوں اور ساحلی علاقوں میں آباد ہیں۔ سویڈن کی تقریباً 85 فیصد آبادی شہروں میں رہائش پذیر ہے۔ ملک کے تین سب سے بڑے شہر سٹاک ہوم، گوتھنبرگ اور مالمو ہیں۔ ان تینوں شہروں اور ان کے مضافات میں لگ بھگ 40 لاکھ افراد بستے ہیں۔
قدرتی وسائل
سویڈن کئی انتہائی اہم قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، جن میں لوہے کی کچ دھات (iron ore) اور دیگر معدنیات، جنگلات، زرعی اراضی اور پانی شامل ہیں۔
لوہے کی کچ دھات اور معدنیات
لوہے کی کچ دھات اور دیگر معدنیات کانوں سے نکالی جاتی ہیں۔ سب سے بڑی کانیں نوربوٹن کاؤنٹی (Norrbotten) میں واقع ہیں، مثال کے طور پر کیرونا (Kiruna) اور مالمبریٹ (Malmberget)۔
لوہا بنیادی طور پر سٹیل بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تاہم، کانوں سے دیگر معدنیات جیسا کہ تانبا، زنک، سیسہ اور سونا بھی دریافت ہوتا ہے۔ لوہا اور سٹیل طویل عرصے سے سویڈن کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

لوہے کی کچ دھات کی سب سے بڑی کانیں نوربوٹن میں واقع ہیں، اور وہاں سے خام مال کو بذریعہ ٹرین آگے منتقل کیا جاتا ہے۔
پانی
اپنی بے شمار جھیلوں، آبی گزرگاہوں اور دریاؤں کی بدولت سویڈن کو پانی کے وافر ذخائر تک رسائی حاصل ہے۔ یہ پانی پینے، زراعت اور صنعتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی توانائی کا ایک انتہائی اہم ذریعہ بھی ہے۔ کئی دریاؤں پر ہائیڈرو الیکٹرک پاور سٹیشن قائم ہیں جہاں بہتے ہوئے پانی سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ ہائیڈرو الیکٹرک پاور سویڈن کی مجموعی بجلی کی پیداوار کا ایک بہت بڑا حصہ فراہم کرتی ہے۔
زرعی اراضی
سویڈن کا زرعی نظام وہاں کی آب و ہوا کے عین مطابق وضع کیا گیا ہے۔ شمال میں زراعت قدرے مشکل ہے کیونکہ وہاں آب و ہوا زیادہ سرد ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر زرعی سرگرمیاں جنوبی سویڈن میں مرکوز ہیں۔
جنگلات
جنگلات سے حاصل ہونے والی مصنوعات کئی ممالک کو برآمد کی جاتی ہیں۔ یہ ایک طویل عرصے سے سویڈن کی غیر ملکی تجارت کا ایک انتہائی اہم جزو رہا ہے۔
جنگل سے حاصل ہونے والی چند کلیدی مصنوعات مندرجہ ذیل ہیں:
لکڑی کا گودا (سیلولوز)۔
کاغذ اور گتہ۔
لکڑی، جو بطورِ خاص تعمیراتی صنعت میں استعمال ہوتی ہے۔

جنگلات کی صنعت سویڈن کی اہم ترین صنعتوں میں شمار ہوتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلیاں
زمین کی آب و ہوا ہمیشہ بدلتی رہی ہے، لیکن آج کل گلوبل وارمنگ پہلے کی نسبت کہیں زیادہ تیزی سے ہو رہی ہے۔ دنیا بھر کے سائنسدانوں اور اقوام متحدہ کے کلائمیٹ پینل کی رپورٹس کے مطابق، اس کی سب سے بڑی وجہ ٹرانسپورٹ، صنعتوں اور زراعت سے انسانوں کے ذریعے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں۔ جیسے جیسے زمین کا درجہ حرارت بڑھتا ہے، آب و ہوا میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ قطبین پر جمی برف پگھلتی ہے، جس سے سطح سمندر میں اضافہ ہوتا ہے۔ شدید موسمی حالات جیسے ہیٹ ویو (گرمی کی شدید لہریں)، طوفانی بارشیں اور خشک سالی جیسے واقعات بھی کثرت سے پیش آنے لگتے ہیں۔
سویڈن میں، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید بارشوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں جو سیلاب کا باعث بنتے ہیں۔ گرمیوں میں زیادہ اور شدید گرمی کے ادوار خشک سالی اور جنگلات میں آگ لگنے جیسے خطرات کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔
آب و ہوا کے خطرات کو کم کرنے کے لیے سویڈن کے اقدامات
سویڈن موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ سویڈن میں باقاعدہ ایک ‘کلائمیٹ لاء’ (climate law) نافذ ہے جس میں موسمیاتی پالیسی کے واضح اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک بنیادی ہدف یہ ہے کہ سال 2045 تک سویڈن میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج صفر کے جتنا قریب ہو سکے، کیا جائے۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ سویڈن کو اتنی گرین ہاؤس گیسیں خارج نہیں کرنی چاہئیں جنہیں قدرت خود جذب کرنے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو۔
سویڈن موجودہ حل استعمال کرنے کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعاون کرتا ہے، جیسے ہوا، پانی اور شمسی توانائی سے مزید بجلی پیدا کرنے والی جدید ٹیکنالوجی کا فروغ۔
پائیدار ترقی (Sustainable development)
پائیدار ترقی سے مراد قدرتی وسائل کو اس ذمہ داری سے استعمال کرنا ہے کہ آنے والی نسلیں بھی ایک بہترین معیارِ زندگی گزار سکیں۔ اس تصور میں ماحولیات، معاشرہ اور معیشت کی بہتری شامل ہے۔ ریاستیں، تجارتی کمپنیاں اور عام افراد، سب اس میں اپنا تعمیری کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومتیں اور بین الاقوامی تنظیمیں اخراج کو کم کرنے اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے ضروری فیصلے کر سکتی ہیں اور قوانین وضع کر سکتی ہیں۔ کمپنیاں آب و ہوا پر اپنے منفی اثرات کو کم کر سکتی ہیں، اور عام لوگ ایک پائیدار طرزِ زندگی اپنا کر اور سیاسی و سماجی سطح پر متحرک ہو کر اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔
روزمرہ کی زندگی میں نقصان دہ اخراج کو کم کرنے اور ماحولیات کی حفاظت کے لیے، آپ مندرجہ ذیل اقدامات کر سکتے ہیں:
پبلک ٹرانسپورٹ، جیسے بس یا ٹرین کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔
بجلی اور ہیٹنگ کی بچت کریں۔
کچرے کو الگ الگ کریں اور اسے ری سائیکل (recycle) کریں۔

زیادہ تر رہائشی علاقوں کے قریب ہی، شہری بآسانی دھات، شیشہ، پلاسٹک، پیکجنگ کے مواد اور پرانے اخبارات کو ری سائیکل کر سکتے ہیں۔
